Welcome to the Forum..

You are currently viewing our boards as a Guest which gives you limited access to view most discussions and access our other features. By joining our free community you will have access to post topics, communicate privately with other members (PM), respond to polls, upload content and access many other special features. Registration is fast, simple and absolutely free so please, join our community today!

If you have any problems with the registration process or your account login, please contact us.

You are not connected. Please login or register

Maan Ki Zimedariyaan..

View previous topic View next topic Go down  Message [Page 1 of 1]

1GMT + 4 Hours Maan Ki Zimedariyaan.. on 09/07/11, 11:22 am

Zindagi

avatar
*Moderator*
*Moderator*

ماوں کی ذمہ داریاں


ماں کی محبت‘ ماں کی ممتا‘ ماں کی آغوش اور ماں کی شفقت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ دنیا کتنی بھی ترقی کیوں نہ کر جائے ماں وہ ہستی ہے کہ ترقی نے جس کی ممتا اور محبت کو کوئی گزند نہ پہنچائی۔ انسان کی آئندہ پوری زندگی کا دارومدار اس ماں کی پرورش اور تربیت پر ہے۔ دنیا کتنی آگے چلی گئی‘ تمام دنیا گلوبل ویلیج بن گئی‘ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر نے ہر فاصلے کو مٹادیا لیکن ماں کی آغوش کا کوئی کمپیوٹر‘ کوئی انٹرنیٹ‘ کوئی بھی دوسرا ذریعہ یا ٹیکنالوجی مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس گود کی گرمی‘ اس کا احساسِِ تحفظ‘ اس کی محبت خاندان کو ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔

ہیلن تھامسن (Helen Thomson) کا یہ کہنا ہے ”ہر بڑے آدمی کے اندر ایک چھوٹا بچہ موجود ہوتا ہے جو کہ اپنی ماں کو تلاشتا ہے۔“ سگمنڈ فرائیڈ کی نفسیات یہ بتاتی ہے کہ بچپن کا احساسِ تحفظ کس طرح بڑے ہوکر بچے کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اس میں جنس کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ اس سے مراد صرف بچے ہی ہیں جن کے لیے ابتدائی سالوں کی فرد کے مستقبل کے لیے بہت زیادہ اہمیت ہے۔ آج اس گلوبل ویلیج میں میڈیا‘ پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں ہی بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

اکیسویں صدی میں میڈیا کا کردار جہاں مثبت رجحان پیدا کررہا ہے وہیں اس کے منفی اثرات بھی بہت زیادہ ہیں، خاص کر نئی نسل جو ابھی اچھائی اور برائی میں اتنی زیادہ تمیز نہیں کرسکتی، ان کو ہر چمکتی ہوئی چیز سونا دکھائی دیتی ہی، چاہے وہ چمک ان کی آنکھوں کو خیرہ کردے‘ چاہے وہ چمک آنکھوں کو اندھا کردے۔ اس لیے اس نسل کی درست سمت میں رہنمائی کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہوگیا ہی، کیوں کہ ہر اچھی بری چیز انسان کی فنگرٹپ پر ہے چاہے وہ ٹی وی کا ریموٹ ہو یا کمپیوٹر کا ماوس۔ ایسے میں ماوں کا کردار ایک ایسے جرنیل کا ہوگیا ہے جو ایک ایسی فوج کی رہنمائی کررہا ہو جس میں سارے فوجی غیر تربیت یافتہ ہیں اور وہ حالتِ جنگ میں ہے۔ اس وقت سمجھ بوجھ‘ رہنمائی‘ روک ٹوک‘ بچے کے ساتھ مکمل ذہنی ہم آہنگی‘ دوستانہ رویہ، اور سب سے بڑی چیز آپ کا وقت خزانے کی وہ کنجی ہے جس سے بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ماں خود بھی برے کو برا اور اچھے کو اچھا سمجھ سکے۔

تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بچپن میں جن بچوںکو نظرانداز کیا جائی، بڑے ہونے پر ان کو مختلف قسم کے تعلقات نبھانے میں بہت زیادہ دشواری پیش آتی ہے‘ چاہے وہ سماجی تعلقات ہوں یا گھریلو.... دونوں میں ان کے رویّے پیچیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آج بھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہماری مائیں جو نوکری پیشہ ہیں‘ وہ بچوںکو کیئر سینٹرز یا آیا کے حوالے کرنے سے بہتر یہ سمجھتی ہیں کہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہوئے انہیں بزرگوں کے سائے میں پروان چڑھایا جائے۔ آج میڈیا کے اس دور میں جب ہم نے اپنے بچوں کے لیے موبائل فون اور انٹرنیٹ کو ایک ضرورت سمجھ لیا ہے کہ اس کے بغیر ہمارا بچہ شاید دنیا سے پیچھے رہ جائے گا‘ اپنے بچے کو سب کچھ فراہم کرکے ہم نے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ وہ بچہ اس سہولت کا استعمال کسی مثبت کام کے لیے کررہا ہے یا اس سے منفی باتیں سیکھ رہا ہے‘ یہ سب ہم نہیں جاننا چاہتے۔ اور یہی فرائض سے پہلوتہی معاشرے میں بگاڑ کی صورت پیدا کررہی ہے۔ ہم ماوں نے اپنے بچوں سے علیحدہ اپنی دنیا بسالی ہے جس میں ہمارے اسٹار پلس کے ڈرامے‘ ہمارے نئے فیشن‘ ہماری فضول بات چیت اور ہمارے اپنے مسائل اتنے اہم ہیں کہ اس میں ہم اپنے بچوں کو نظرانداز کررہے ہیں۔ میڈیا کیا پیش کررہا ہے اور اس سے ہمارے بچے کیا سیکھ رہے ہیں‘ ہمیں اس پر توجہ دینے کی‘ اس کو سمجھنے کی سخت ضرورت ہے۔

حدیث نبوی ہی: ”بچہ دینِ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن ماحول اسے یہود یا نصاریٰ بنادیتا ہے۔“ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کوئی بھی پیدائشی اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ اس کا ماحول اس کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ اپنے ماحول کو اپنے بچے کے لیے کتنا سازگار بناتے ہیں۔ آج یہ بات ہم مانتے بھی ہیں اور جانتے بھی کہ کمپیوٹر‘ موبائل یا انٹرنیٹ سے مدد لینا اب بچوں کی عادت اور ضرورت بن گیا ہے۔ اکثر اسکولوں میں بھی بچوں کو انٹرنیٹ سے مواد حاصل کرنے کا کام دیا جاتا ہی، اس لیے اگر انٹرنیٹ کا استعمال بچوں کے لیے ناگزیر ہوجائے تو بھی بچوں کے ساتھ اس کام میں آپ مائیں شریک ہوجائیں۔ کمپیوٹر کا استعمال آپ بھی سیکھیں۔ ٹی وی پر وہ کیا دیکھ رہے ہیں اس پر نظر رکھیں۔ کمپیوٹر کو الگ تھلگ کمرے میں نہ رکھیں بلکہ ایسی جگہ رکھیں جہاں سے آپ آتے جاتے‘ کام کرتے ہوئے دیکھ سکیں کہ آپ کا بچہ کمپیوٹر پر کیا کام کررہا ہے۔ اگر اس کے پاس موبائل فون ہے تو اس کو اس کا درست اور ناجائز استعمال دونوں کی بابت سمجھائیں تاکہ وہ خود بھی اس کے غیر ضروری استعمال سے گریز کرے۔

گھر کا ماحول بچوں کے لیے ایسا ٹانک یا زہر ثابت ہوسکتا ہے جس کے استعمال سے وہ طاقتور بھی ہوسکتے ہیں اور کمزور بھی۔ اچھا‘ تعلیم یافتہ محبت بھرا ماحول بچوں کے لیے ایسا ٹانک ہے جو بچوں میں برائی سے لڑنے کی طاقت اور زمانے کو سمجھنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہی، اور بدتر جھگڑالو ماحول بچے کے لیے وہ زہر ثابت ہوتا ہے جو اس کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو ختم کرکے اسے بھی معاشرے کے لیے ایک مضر اور تکلیف دہ رکن بنادیتا ہے۔ اس لیے اپنے بچوں کے لیے ایک پیارا‘ صحت مند اور پرسکون ماحول دینا ہمارا اوّلین فرض ہونا چاہیے۔


_________________

2GMT + 4 Hours Re: Maan Ki Zimedariyaan.. on 09/07/11, 12:16 pm

Creative-Art

avatar
*Administrator*
*Administrator*


_________________
_|________________________,,
/ `---___Master Mind007 ___|]
/_==o;;;;;;;;_______.:/
),---.(_(__) /
// () ),----"
//___//


Dreamz World Owner
http://www.dreamzworld.justgoo.com

View previous topic View next topic Back to top  Message [Page 1 of 1]

Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum